بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 2405 — باب: بغیر سوال اور خواہش کے لینے کا بیان۔
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: بغیر سوال اور خواہش کے لینے کا بیان۔ حدیث 2405
حدیث نمبر: 2405 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ، فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْهُ وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ، وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی مجھے عنایت فرماتے تھے تو میں عرض کرتا: کسی ایسے آدمی کو عنایت فرما دیجئے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو حتیٰ کہ ایک دفعہ آپ نے مجھے بہت سارا مال عطا کر دیا تو میں نے عرض کی: کسی ایسے فرد کو عطا کر دیجئے جو اس کا مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے لے لو اور ایسا جو مال تمہارے پاس اس طرح آئے کہ نہ تو تم اس کے خواہش مند ہو اور نہ ہی مانگنے والے ہو تو اس کو لے لو اور جو مال اس طرح نہ ملے اس کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2405]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (2404) باب پر واپس اگلی حدیث (2406) →