زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ؟، فَقَالَ: " أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْغِنَى، وَلَا تُمْهِلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ "، قُلْتَ لِفُلَانٍ: كَذَا، وَلِفُلَانٍ كَذَا، أَلَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے عمارہ بن قعقاع سے انہوں نے ابوزرعہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ (اجر میں) بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تم (اس وقت) صدقہ کرو جب تم تندرست ہو اور مال کی خواہش رکھتے ہو فقر سے ڈرتے ہو اور تونگری کی امید رکھتے ہو اور اس قدر تاخیر نہ کرو کہ جب (تمہاری جان) حلق تک پہنچ جائے (پھر) تم کہو: اتنا فلاں کا ہے اور اتنا فلاں کا۔ اب تو وہ فلاں (وارث) کا ہو ہی چکا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2382]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة