يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ
وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَى آخِرِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا " وَلَمْ يَقُلْ: " مِنْهَا حَقَّهَا "، وَذَكَرَ فِيهِ: " لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا "، وَقَالَ: " يُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبْهَتُهُ وَظَهْرُهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام بن سعد نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ حفص بن میسرہ کی حدیث کے آخر تک اس کے ہم معنی روایت بیان کی، البتہ انہوں نے ”جو اونٹوں کا مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا“ کہا: اور «ومن حقها» (اور میں سے ان کا حق) کے الفاظ نہیں کہے اور انہوں نے (بھی) اپنی حدیث میں ”وہ ان میں سے دودھ چھڑائے ہوئے ایک بچے کو بھی گم نہ پائے گا“ کے الفاظ روایت کیے ہیں اور اسی طرح (ان سے اس کے پہلو، پیشانی اور کمر کو داغا جائے گا کے بجائے) «يكوى بها جنباه وجبخته وظهره» (اس کے دونوں پہلو، اس کی پیشانی اور کمر کو داغا جائے گا) کے الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2291]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة