مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: " كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا، عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ وَمَمْلُوكٍ، مِنْ ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ: صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ "، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ كَذَلِكَ، حَتَّى كَانَ مُعَاوِيَةُ فَرَأَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ بُرٍّ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن امیہ نے کہا: مجھے عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں زکاۃ الفطر ہر چھوٹے بڑے آزاد اور غلام کی طرف سے تین (قسم کی) اصناف سے نکالتے تھے: کھجوروں سے ایک صاع، پنیر سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع، ہم ہمیشہ اس کے مطابق نکالتے رہے یہاں تک کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کا دور آیا تو انہوں نے یہ رائے پیش کی کہ گندم کے دو مد کھجوروں کے ایک صاع کے برابر ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”لیکن میں تو اسی (پہلے طریقے سے) نکالتا رہوں گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2285]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة