بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 2117 — باب: نماز کسوف کے لئے «الصّلاةُ جَامِعَةٌ» ‏‏‏‏ کہہ کر پکارنا چاہیئے۔
کتب صحیح مسلم سورج اور چاند گرہن کے احکام باب: نماز کسوف کے لئے «الصّلاةُ جَامِعَةٌ» ‏‏‏‏ کہہ کر پکارنا چاہیئے۔ حدیث 2117
حدیث نمبر: 2117 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، بُرَيْدٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ، حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَقَامَ يُصَلِّي بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ، مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ فِي صَلَاةٍ قَطُّ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ ". وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْعَلَاءِ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ "، وَقَالَ: " يُخَوِّفُ عِبَادَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعامر اشعری، عبداللہ بن براد اور محمد بن علاء نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے برید سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ تیزی سے اٹھے، آپ کو خوف لاحق ہوا کہ مبادا قیامت (آ گئی) ہو، یہاں تک کہ آپ مسجد میں تشریف لے آئے اور آپ کھڑے ہوئے بہت طویل قیام، رکوع اور سجدے کے ساتھ نماز پڑھتے رہے، میں نے کبھی آپ کو نہیں دیکھا تھا کہ کسی نماز میں (آپ نے) ایسا کیا ہو، پھر آپ نے فرمایا: یہی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے۔ یہ کسی کی موت یا زندگی کی بناء پر نہیں ہوتیں، بلکہ اللہ ان کو بھیجتا ہے تاکہ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو (قیامت سے) خوف دلائے، اس لیے جب تم ان میں سے کوئی نشانی دیکھو تو جلد از جلد اس کے ذکر، دعا اور استغفار کی طرف لپکو۔ ابن علاء کی روایت میں «خسفت الشمس» کے بجائے «كسفت الشمس» (سورج کو گرہن لگا) کے الفاظ ہیں (معنی ایک ہی ہے) اور انہوں نے «يخوف بها عباده» (ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے) کے بجائے «يخوف عباده» (اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے) کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2117]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (2116) باب پر واپس اگلی حدیث (2118) →