أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَيُّوبُ ، عَطَاءً ، ابْنَ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: " أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ "، قَالَ: " ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، وَبِلَالٌ قَائِلٌ بِثَوْبِهِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ وَالْخُرْصَ وَالشَّيْءَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے کہا: ہم سے ایوب نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا میں نے عطاء سے سنا انہوں نے کہا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں شہادت دیتا ہوں آپ نماز عید خطبہ سے پہلے پڑھی پھر آپ نے خطبہ دیا پھر آپ نے دیکھا کہ آپ نے عورتوں کو (اپنی بات) نہیں سنائی تو آپ ان کے پاس آئے اور ان کو یاد دہانی (تلقین) فرمائی اور انہیں نصیحت کی اور صدقہ کرنے کا حکم دیا اور بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے کوئی عورت (اس کپڑے میں) انگوٹھی پھینکتی تھی (کوئی حلقے دار زیور (چھلے بالیاں کڑے کنگن)) اور کوئی دوسری چیزیں ڈالتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2045]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة