يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كَريْب ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كَريْب ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ لآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر جمعے کے لیے آیا، غور کے ساتھ خاموشی سے خطبہ سنا، اس کے جمعے سے لے کر جمعے تک گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اور تین دن زائد کے بھی۔ اور جو (بلا وجہ) کنکریوں کو ہاتھ لگاتا رہا (ان سے کھیلتا رہا)، اس نے لغو اور فضول کام کیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 1988]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة