ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغِيتَ ". قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: هِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَإِنَّمَا هُوَ فَقَدْ لَغَوْتَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزناد نے عرج سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جمعے کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو (اس وقت) اگر تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو تو تم نے (خود) شور مچایا۔“ ابوزناد نے کہا: یہ (فقد لغیت) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (کے قبیلے) کی لغت ہے جبکہ (عام مروج لغت) (فقد لغوت) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 1968]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة