يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَمَّنْ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ، " أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى، فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید بن رومان نے صالح بن خوات سے اور انہوں نے اس شخص سے نقل کیا جس نے غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں نماز خوف پڑھی تھی۔ کہ ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ صف بنائی اور دوسرا گروہ دشمن کے روبرو تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے رہے اور انہوں نے اپنے طور پر (دوسری رک **تصحیح شدہ**: رکعت پڑھ کر) نماز مکمل کر لی اور (سلام پھیر کر) چلے گئے اور دشمن کے سامنے صف بند ہو گئے اور دوسرا گروہ آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو رکعت رہتی تھی ان کو پڑھا دی پھر بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے اپنے طور پر (رکعت پڑھ کر) نماز مکمل کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1948]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة