ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَيُّوبَ ، أَبُو قِلَابَةَ ، مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ أَبُو سُلَيْمَانَ
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو قِلَابَةَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ أَبُو سُلَيْمَانَ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي نَاسٍ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، وَاقْتَصَّا جَمِيعًا الْحَدِيثَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اور یہی حدیث ہمیں ابن ابی عمر نے سنائی، کہا: عبدالوہاب نے بھی ایوب سے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھ سے ابوقلابہ نے بیان کیا، کہا: ہمیں ابوسلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: میں کچھ لوگوں (کی معیت) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، ہم تقریباً ہم عمر نوجوان تھے۔ آگے دونوں (حماد اور عبدالوہاب) نے ابن علیہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ عبدالوہاب ثقفی نے خالد حذاء سے، انہوں نے ابوقلابہ سے اور انہوں نے حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں اور میرا ساتھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب ہم نے آپ کے ہاں سے واپسی کا ارادہ کیا تو آپ نے ہم سے فرمایا: ”جب نماز (کا وقت) آئے تو اذان کہو، پھر اقامت کہو اور تم دونوں میں جو بڑا ہو وہ تمہاری امامت کر لے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1537]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة