يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، شُعْبَةُ ، بُدَيْلٍ ، أَبَا الْعَالِيَةِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَضَرَبَ فَخِذِي، كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟ قَالَ: قَالَ: مَا تَأْمُرُ؟ قَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، ثُمَّ اذْهَبْ لِحَاجَتِكَ، فَإِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلِّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بدیل سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابوعالیہ سے سنا، وہ عبداللہ بن صامت سے اور وہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اور میری ران پر ہاتھ مارا: ”تمہارا کیا حال ہو گا جب تم ایسے لوگوں میں اپنی بقیہ زندگی گزار رہے ہو گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں گے؟“ (عبداللہ بن صامت نے) کہا: انہوں نے کہا: آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: ”تم نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لینا، اور اپنی ضرورت کے لیے چلے جانا، پھر اگر نماز کی اقامت کہی گئی اور تم مسجد میں ہوئے تو (دوبارہ) پڑھ لینا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1468]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة