خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَمَّادٌ ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ: " كَيْفَ أَنْتَ، إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا، أَوْ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟ قَالَ: قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ، فَصَلِّ، فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ "، وَلَمْ يَذْكُرْ خَلَفٌ: عَنْ وَقْتِهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
خلف بن ہشام، ابوربیع زہرانی اور ابوکامل جحدری نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی، انہوں نے ابوعمران جونی سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہو گا جب تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے یا نماز کو اس کے وقت سے ختم کر دیں گے؟“ میں نے عرض کی تو آپ مجھے (اس کے بارے میں) کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے وقت پر نماز پڑھ لینا اگر تمہیں ان کے ساتھ (بھی) نماز مل جائے تو پڑھ لینا، وہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“ خلف نے «عن وقتھا» (اس کے وقت سے) کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1465]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة