أَبُو طَاهِرٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو طَاهِرٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ: مَا أَنْتَ بِمُحَدِّثٍ قَوْمًا حَدِيثًا، لَا تَبْلُغُهُ عُقُولُهُمْ، إِلَّا كَانَ لِبَعْضِهِمْ فِتْنَةً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوطاہر رحمہ اللہ، حرملہ بن یحییٰ رحمہ اللہ، ابن وہب رحمہ اللہ، یونس رحمہ اللہ، ابن شہاب رحمہ اللہ، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم کسی قوم کے سامنے ایسی حدیث بیان نہیں کرتے جس (کے صحیح مفہوم) تک ان کی عقلیں نہیں پہنچ سکتیں، مگر وہ ان میں سے بعض کے لیے فتنے (کا موجب) بن جاتی ہیں۔“ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 14]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة