زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةُ ، وَثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، وَثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا، جَاءَ فَدَخَلَ الصَّفَّ، وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ، فَقَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ، حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا، مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا، فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا، فَقَالَ رَجُلٌ: جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ، فَقُلْتُهَا. فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا، أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی آیا اور صف میں شریک ہوا جبکہ اس کی سانس چڑھی ہوئی تھی، اس نے کہا: «الحمد للہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ» ”تمام حمد اللہ ہی کے لیے ہے، حمد بہت زیادہ، پاک اور برکت والی حمد۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو آپ نے پوچھا: ”تم میں سے یہ کلمات کہنے والا کون تھا؟“ سب لوگوں نے ہونٹ بند رکھے۔ آپ نے دوبارہ پوچھا: ”تم میں سے یہ کلمات کہنے والا کون تھا؟ اس نے کوئی ممنوع بات نہیں کہی۔“ تب ایک شخص نے کہا: میں اس حالت میں آیا کہ میری سانس پھولی ہوئی تھی تو میں نے اس عالم میں یہ کلمات کہے۔ آپ نے فرمایا: ”میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا جو (اس میں) ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ کون اسے اوپر لے جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1357]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة