بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 1314 — باب: نماز ختم کرتے وقت سلام کیوں پھیرنا چاہئیے۔
کتب صحیح مسلم مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام باب: نماز ختم کرتے وقت سلام کیوں پھیرنا چاہئیے۔ حدیث 1314
حدیث نمبر: 1314 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمِ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ شُعْبَةُ: رَفَعَهُ مَرَّةً، " أَنَّ أَمِيرًا أَوْ رَجُلًا، " سَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ "، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَّى عَلِقَهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
احمد بن حنبل نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے حدیث سنائی، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابومعمر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ شعبہ نے کہا: حکم نے ایک بار یہ روایت مرفوع بیان کی کہ ایک حاکم یا ایک آدمی نے دو طرف سلام پھیرا تو عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے کہا: اس نے یہ (سنت) کہاں سے اپنا لی ہے؟ گویا اس دور کے حاکموں نے ایسی سنتیں بھی ترک کی ہوئی تھیں۔ جس نے اہتمام کیا صحابہ نے اسے سراہا۔ محدثین کی کاوشوں سے یہ سب سنتیں زندہ ہوئیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1314]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (1313) باب پر واپس اگلی حدیث (1315) →