يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، هُشَيْمٌ ، سَيَّارٍ ، يَزِيدَ الْفَقِيرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ، يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَلَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَيِّبَةً طَهُورًا وَمَسْجِدًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ، صَلَّى حَيْثُ كَانَ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَيْنَ يَدَيْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا کہ ہمیں ہشیم نے سیار سے خبر دی، انہوں نے یزید الفقیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں: ہر نبی خاص اپنی قوم ہی کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے ہر سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا، میرے لیے اموال غنیمت حلال قرار دیے گئے، مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہیں کیے گئے، میرے لیے زمین کو پاک کرنے والی اور سجدہ گاہ بنایا گیا، لہٰذا جس شخص کے لیے نماز کا وقت ہو جائے وہ جہاں بھی ہو، وہیں نماز پڑھ لے، اور مہینہ بھر کی مسافت سے دشمنوں پر طاری ہو جانے والے رعب سے میری نصرت کی گئی اور مجھے شفاعت (کا منصب) عطا کیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1163]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة