يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، أَبِي النَّضْرِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي، فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ، وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا، قَالَتْ: وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سو جاتی اور میرے پاؤں آپ کے قبلے (والے حصے) میں ہوتے، جب آپ سجدہ کرتے تو (پاؤں پر ہاتھ لگا کر) مجھے اشارہ کر دیتے تو میں اپنے دونوں پاؤں سکیڑ لیتی اور جب آپ کھڑے ہو جاتے تو میں ان کو پھیلا لیتی۔ انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: گھر ان دنوں ایسے تھے کہ ان میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1145]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة