زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ، قَالَ: " مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر بن حرب، جریر، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ قریش جاہلیت کے زمانہ میں عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی جب مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو جب رمضان کے روزے فرض کر دیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے یوم عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2637]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة