يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، أَبِي النَّضْرِ ، عُمَيْرٍ ، أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ : " أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِعَرَفَةَ، فَشَرِبَهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ، مالک، ابونضر، عمیر، مولی ابن عباس، حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روزے کے بارے میں بات چیت کی ان میں سے کچھ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں تھے اور کچھ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں نہیں تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف دودھ کا ایک پیالہ اس وقت بھیجا جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اونٹ پر عرفہ کے دن سوار تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ دودھ پی لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2632]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة