أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ وَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأ: ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ حَتَّى قَرَأَ: وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ سورة ق آية 1 - 10، قَالَ: فَجَعَلْتُ أُرَدِّدُهَا، وَلَا أَدْرِي مَا قَالَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انہوں نے حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے نماز پڑھی اور ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھائی، آپ نے «ق والقرآن المجيد» پڑھی حتیٰ کہ آپ نے «والنخل باسقت» (اور کجھور کے بلند و بالا درخت) پڑھا تو میں اس آیت کو بار بار (ذہن میں) دہرانے لگا اور آپ نے جو کہا مجھے اس (کے مفہوم) کا پتہ نہ چلا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1024]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة