هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ المسيب العابدي ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ المسيب العابدي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: " صَلَّى لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الصُّبْحَ بِمَكَّةَ، فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ، حَتَّى جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى، وَهَارُونَ، أَوْ ذِكْرُ عِيسَى، مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، يَشُكُّ أَوِ اخْتَلَفُوا عَلَيْهِ، أَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ، فَرَكَعَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ حَاضِرٌ ذَلِكَ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاق: فَحَذَفَ، فَرَكَعَ، وَفِي حَدِيثِهِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، وَلَمْ يَقُلْ: ابْنِ الْعَاصِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حجاج بن محمد نے ابن جریج سے روایت کی، نیز عبدالرزاق نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ابن جریج نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے محمد بن عباد بن جعفر سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھے ابوسلمہ بن سفیان، عبداللہ بن عمرو بن عاص اور عبداللہ بن مسیب سے عابدی نے حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں مکہ میں صبح کی نماز پڑھائی تو سورہ مومنون کی قراءت شروع کی حتیٰ کہ موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کا ذکر آیا یا عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر آیا (محمد بن عبادہ کو شک ہے یا راویوں نے اس کے سامنے (بیان کرتے ہوئے) اختلاف کیا ہے) (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھانسی آنے لگی تو آپ رکوع میں چلے گئے۔ عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بھی اس نماز میں موجود تھے۔ عبدالرزاق کی روایت میں ہے: آپ نے قراءت قطع کر دی اور رکوع میں چلے گئے۔ اور ان کی حدیث میں (راوی کا نام) عبداللہ بن عمرو ہے، آگے ابن عاص نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1022]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة