بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الملک میں) ارشاد ”اپنی بات آہستہ سے کہو یا زور سے اللہ تعالیٰ دل کی باتوں کو جاننے والا ہے۔ کیا وہ اسے نہیں جانے گا جو اس نے پیدا کیا اور وہ بہت باریک دیکھنے والا اور خبردار ہے“۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الملک میں) ارشاد ”اپنی بات آہستہ سے کہو یا زور سے اللہ تعالیٰ دل کی باتوں کو جاننے والا ہے۔ کیا وہ اسے نہیں جانے گا جو اس نے پیدا کیا اور وہ بہت باریک دیکھنے والا اور خبردار ہے“۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q7525 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
{يَتَخَافَتُونَ} يَتَسَارُّونَ.
‏‏‏‏ «يتخافتون‏» کے معنی «يتسارون‏» یعنی جو چپکے بات کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: Q7525]
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 7525 صحیح بخاری
عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، هُشَيْمٍ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، عَنْ هُشَيْمٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110، قَالَ: نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم مختف بمكة، فكان إذا صلى بأصحابه رفع صوته بالقرآن، فإذا سمعه المشركون سبوا القرآن ومن أنزله ومن جاء به، فقال الله لنبيه صلى الله عليه و آله وسلم: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110 أي بقراءتك فيسمع المشركون فيسبوا القرآن وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110.
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، ان سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابوبشر نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها‏» کے بارے میں کہ یہ آیت جب نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ میں چھپ کر (اعمال اسلام ادا کرتے تھے) لیکن جب اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتے تو قرآن مجید بلند آواز سے پڑھتے، جب مشرکین سنتے تو قرآن مجید کو، اس کے اتارنے والے کو اور اسے لے کر آنے والے کو گالی دیتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا کہ اپنی قرآت میں آواز بلند نہ کریں کہ مشرکین سنین اور پھر قرآن کو گالی دیں اور نہ اتنا آہستہ ہی پڑھیں کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ ان کے درمیان کا راستہ اختیار کریں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7525]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7526 صحیح بخاری
عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 فِي الدُّعَاءِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آیت «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها‏» دعا کے بارے میں نازل ہوئی، یعنی دعا نہ بہت چلا کر مانگ نہ آہستہ بلکہ درمیانہ راستہ اختیار کر۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7526]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7527 صحیح بخاری
إِسْحَاقُ ، أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ" وَزَادَ غَيْرُهُ يَجْهَرُ بِهِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو خوش آوازی سے قرآن نہیں پڑھتا وہ ہم مسلمانوں کے طریق پر نہیں ہے۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے سوا دوسرے لوگوں نے اس حدیث میں اتنا زیادہ کیا ہے یعنی اس کو پکار کر نہ پڑھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7527]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة