بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اللہ تعالیٰ کے ناموں کے وسیلہ سے مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہنا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں باب: اللہ تعالیٰ کے ناموں کے وسیلہ سے مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہنا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 9
حدیث نمبر: 7393 صحیح بخاری
عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مَالِكٌ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَحْيَى ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، زُهَيْرٌ ، وَأَبُو ضَمْرَةَ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، ابْنُ عَجْلَانَ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ فِرَاشَهُ، فَلْيَنْفُضْهُ بِصَنِفَةِ ثَوْبِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَلْيَقُلْ: بِاسْمِكَ رَبِّ، وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لَهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا، فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ" تَابَعَهُ يَحْيَى وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَادَ زُهَيْرٌ، وَأَبُو ضَمْرَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَوَاهُ ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے بستر پر جائے تو اسے چاہئے کہ اسے اپنے کپڑے کے کنارے سے تین مرتبہ صاف کر لے اور یہ دعا پڑھے «باسمك رب وضعت جنبي وبك أرفعه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ إن أمسكت نفسي فاغفر لها،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» اے میرے رب! تیرا نام لے کر میں اپنی کروٹ رکھتا ہوں اور تیرے نام ہی کے ساتھ اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری جان کو باقی رکھا تو اسے معاف کرنا اور اگر اسے (اپنی طرف سوتے ہی میں) اٹھا لیا تو اس کی حفاظت اس طرح کرنا جس طرح تو اپنے نیکوکار بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اس روایت کی متابعت یحییٰ اور بشر بن الفضل نے عبیداللہ سے کی ہے، ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے۔ اور زہیر، ابوضمرہ اور اسماعیل بن زکریا نے عبیداللہ سے یہ اضافہ کیا کہ ان سے سعید نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اور اس کی روایت ابن عجلان نے کی، ان سے سعید نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے۔ اس کی متابعت محمد بن عبدالرحمٰن الداوردی اور اسامہ بن حفص نے کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7393]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7394 صحیح بخاری
مُسْلِمٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، رِبْعِيٍّ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ، وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے، ان سے ربعی بن حراش نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹنے جاتے تو یہ دعا کرتے «اللهم باسمك أحيا وأموت» اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ زندہ ہوں اور اسی کے ساتھ مروں گا۔ اور جب صبح ہوتی تو یہ دعا کرتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے اس کے بعد زندہ کیا کہ ہم مر چکے تھے اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7394]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7395 صحیح بخاری
سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ ، شَيْبَانُ ، مَنْصُورٍ ، رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، خَرَشَةَ بْنِ الحُرِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: بِاسْمِكَ نَمُوتُ وَنَحْيَا، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ربعی بن حراش نے، ان سے خرشہ بن الحر نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رات میں لیٹنے جاتے تو کہتے «باسمك نموت ونحيا» ہم تیرے ہی نام سے مریں گے اور اسی سے زندہ ہوں گے۔ اور جب بیدار ہوتے تو کہتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف جانا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7395]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7396 صحیح بخاری
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمٍ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ، فَقَالَ: بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرُّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سالم نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ‘جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھ لے «باسم الله،‏‏‏‏ اللهم جنبنا الشيطان،‏‏‏‏ وجنب الشيطان ما رزقتنا‏.‏» شروع اللہ کے نام سے، اے اللہ! ہمیں شیطان سے دور رکھنا اور تو جو ہمیں بچہ عطا کرے اسے بھی شیطان سے دور رکھنا۔ تو اگر اسی صحبت میں ان دونوں سے کوئی بچہ نصیب ہوا تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7396]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7397 صحیح بخاری
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، فُضَيْلٌ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، هَمَّامٍ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أُرْسِلُ كِلَابِي الْمُعَلَّمَةَ؟، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَأَمْسَكْنَ فَكُلْ، وَإِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ فَخَزَقَ فَكُلْ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے ہمام نے، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار کے لیے چھوڑتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم سدھائے ہوئے کتے چھوڑو اور ان کے ساتھ اللہ کا نام بھی لے لو، پھر وہ کوئی شکار پکڑیں اور اسے کھائیں نہیں تو تم اسے کھا سکتے ہو اور جب شکار پر بن پھال کے تیر یعنی لکڑی سے کوئی شکار مارے لیکن وہ نوک سے لگ کر جانور کا گوشت چیر دے تو ایسا شکار بھی کھاؤ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7397]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7398 صحیح بخاری
يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَالدَّرَاوَرْدِيُّ ، وَأُسَامَةُ بْنُ حَفْصٍ
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالُوا:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَا هُنَا أَقْوَامًا حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِشِرْكٍ يَأْتُونَا بِلُحْمَانٍ لَا نَدْرِي يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا أَمْ لَا؟، قَالَ: اذْكُرُوا أَنْتُمُ اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا"، تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَالدَّرَاوَرْدِيُّ، وَأُسَامَةُ بْنُ حَفْصٍ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوخالد احمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ہشام بن عروہ سنا، وہ اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے بیان کرتے تھے کہ ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! وہاں کے قبیلے ابھی حال ہی میں اسلام لائے اور وہ ہمیں گوشت لا کر دیتے ہیں۔ ہمیں یقین نہیں ہوتا کہ ذبح کرتے وقت انہوں نے اللہ کا نام بھی لیا تھا یا نہیں (تو کیا ہم اسے کھا سکتے ہیں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس پر اللہ کا نام لے کر اسے کھا لیا کرو۔ اس روایت کی متابعت محمد بن عبدالرحمٰن دراوردی اور اسامہ بن حفص نے کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7398]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7399 صحیح بخاری
حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ يُسَمِّي وَيُكَبِّرُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مینڈھوں کی قربانی کی اور ذبح کرتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر پڑھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7399]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7400 صحیح بخاری
حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، جُنْدَبٍ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدَبٍ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ" صَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ: مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ، فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے اور ان سے جندب رضی اللہ عنہ نے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا جس نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا تو اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح ابھی نہ کیا ہو تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7400]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7401 صحیح بخاری
أَبُو نُعَيْمٍ ، وَرْقَاءُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ورقاء نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھایا کرو، اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہو تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7401]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة