يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، اللَّيْثُ ، عُقَيْلٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، قَال:" لَمَّا تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَذَكَرَ حَدِيثَهُ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلَامِنَا، فَلَبِثْنَا عَلَى ذَلِكَ خَمْسِينَ لَيْلَةً، وَآذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے کہ عبداللہ بن کعب بن مالک، کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو جانے کے زمانے میں ان کے سب لڑکوں میں یہی راستے میں ان کے ساتھ چلتے تھے، (انہوں) نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نہیں جا سکتے تھے، پھر انہوں نے اپنا پورا واقعہ بیان کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم سے گفتگو کرنے سے روک دیا تھا تو ہم پچاس دن اسی حالت میں رہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اعلان کیا کہ اللہ نے ہماری توبہ قبول کر لی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7225]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة