بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ”میرے بعد تم بعض کام دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے“۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: فتنوں کے بیان میں باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ”میرے بعد تم بعض کام دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے“۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q7052 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ
‏‏‏‏ اور عبداللہ بن زید بن عامر نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (انصار سے) یہ بھی فرمایا کہ تم ان کاموں پر صبر کرنا یہاں تک کہ تم حوض کوثر پر آ کر مجھ سے ملو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: Q7052]
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 7052 صحیح بخاری
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ ، عَبْدَ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے زید بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے فرمایا تم میرے بعد بعض کام ایسے دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس سلسلے میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں ان کا حق ادا کرو اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7052]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7053 صحیح بخاری
مُسَدَّدٌ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، الْجَعْدِ ، أَبِي رَجَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ، فَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے جعد صیرفی نے، ان سے ابورجاء عطاردی نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسند بات دیکھے تو صبر کرے (خلیفہ) کی اطاعت سے اگر کوئی بالشت بھر بھی باہر نکلا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7053]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7054 صحیح بخاری
أَبُو النُّعْمَانِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے جعد ابی عثمان نے بیان کیا، ان سے ابورجاء العطاردی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے امیر کی کوئی ناپسند چیز دیکھی تو اسے چاہے کہ صبر کرے اس لیے کہ جس نے جماعت سے ایک بالشت بھر جدائی اختیار کی اور اسی حال میں مرا تو وہ جاہلیت کی سی موت مرے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7054]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7055 صحیح بخاری
إِسْمَاعِيلُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٍو ، بُكَيْرٍ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ:" دَخَلْنَا عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ مَرِيضٌ، قُلْنَا: أَصْلَحَكَ اللَّهُ، حَدِّثْ بِحَدِيثٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: دَعَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے عمرو بن حارث نے، ان سے بکیر بن عبداللہ نے، ان سے بسر بن سعید نے، ان سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا کہ ہم عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے وہ مریض تھے اور ہم نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے۔ کوئی حدیث بیان کیجئے جس کا نفع آپ کو اللہ تعالیٰ پہنچائے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لیلۃالعقبہ میں سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بلایا اور ہم نے آپ سے بیعت کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7055]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7056 صحیح بخاری
فَقَالَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا: أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا، وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا، وَأَثَرَةً عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ".
ترجمہ: مولانا داود راز
انہوں (عبادہ بن صامت) نے بیان کیا کہ جن باتوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے عہد لیا تھا ان میں یہ بھی تھا کہ خوشی و ناگواری، تنگی اور کشادگی اور اپنی حق تلفی میں بھی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور یہ بھی کہ حکمرانوں کے ساتھ حکومت کے بارے میں اس وقت تک جھگڑا نہ کریں جب تک ان کو اعلانیہ کفر کرتے نہ دیکھ لیں۔ اگر وہ اعلانیہ کفر کریں تو تم کو اللہ کے پاس سے دلیل مل جائے گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7056]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7057 صحیح بخاری
مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ،" أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا وَلَمْ تَسْتَعْمِلْنِي؟، قَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے، ایک صاحب (خود اسید) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں عمرو بن العاص کو حاکم بنا دیا اور مجھے نہیں بنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ انصاری میرے بعد اپنی حق تلفی دیکھو گے تو قیامت تک صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7057]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة