بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جس کے ساتھ زبردستی کی جائے اس کا نکاح۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: زبردستی کام کرانے کے بیان میں باب: جس کے ساتھ زبردستی کی جائے اس کا نکاح۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q6945 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَلا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَنْ يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 33.
‏‏‏‏ (اور اللہ نے سورۃ النور میں فرمایا) تم اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو جو پاک دامن رہنا چاہتی ہیں تاکہ تم اس کے ذریعہ دنیا کی زندگی کا سامان جمع کرو اور جو کوئی ان پر جبر کرے گا تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بخشنے والا مہربان ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِكْرَاهِ/حدیث: Q6945]
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 6945 صحیح بخاری
يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُجَمِّعٍ ابني يزيد بن جارية الأنصاري ، خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الْأَنْصَارِيَّةِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعٍ ابني يزيد بن جارية الأنصاري، عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الْأَنْصَارِيَّةِ،" أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے یزید بن حارثہ انصاری کے دو صاحبزادوں عبدالرحمٰن اور مجمع نے اور ان سے خنساء بنت خذام انصاریہ نے کہ ان کے والد نے ان کی شادی کر دی ان کی ایک شادی اس سے پہلے ہو چکی تھی (اور اب بیوہ تھیں) اس نکاح کو انہوں نے ناپسند کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر (اپنی ناپسندیدگی ظاہر کر دی) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس نکاح کو فسخ کر دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِكْرَاهِ/حدیث: 6945]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6946 صحیح بخاری
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَبِي عَمْرٍو هُوَ ذَكْوَانُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو هُوَ ذَكْوَانُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُسْتَأْمَرُ النِّسَاءُ فِي أَبْضَاعِهِنَّ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَإِنَّ الْبِكْرَ تُسْتَأْمَرُ، فَتَسْتَحْيِي، فَتَسْكُتُ، قَالَ: سُكَاتُهَا إِذْنُهَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے ابوعمرو نے جن کا نام ذکوان ہے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا عورتوں سے ان کے نکاح کے سلسلہ میں اجازت لی جائے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ہاں۔ میں نے عرض کیا لیکن کنواری لڑکی سے اجازت لی جائے گی تو وہ شرم کی وجہ سے چپ سادھ لے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِكْرَاهِ/حدیث: 6946]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة