بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا گناہ ہے۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: ان کفار و مرتدوں کے احکام میں جو مسلمانوں سے لڑتے ہیں باب: پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا گناہ ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q6857 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ {4} إِلا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ {5} سورة النور آية 4-5 إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة النور آية 23
‏‏‏‏ اور اللہ پاک نے (سورۃ النور میں) فرمایا جو لوگ پاک دامن آزاد لوگوں کو تہمت لگاتے ہیں پھر چار گواہ رویت کے نہیں لاتے تو ان کو اسی کوڑے لگاؤ اور آئندہ ان کی گواہی کبھی بھی منظور نہ کرو یہی بدکار لوگ ہیں ہاں جو ان میں سے اس کے بعد توبہ کر لیں اور نیک چلن ہو جائیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اس سورت میں مزید فرمایا کہ بیشک جو لوگ پاک دامن آزاد بھولی بھالی ایماندار عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ ملعون ہوں گے اور ان کو ملعون ہونے کے سوا بڑا عذاب بھی ہو گا۔ اس سورت میں فرمایا اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں اور ان کے اپنے سوا ان کے پاس گواہ بھی کوئی نہ ہو ---- آخر آیت تک۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: Q6857]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 6857 صحیح بخاری
عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُلَيْمَانُ ، ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي الْغَيْثِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوالغیث سالم نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سات مہلک گناہوں سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا کیا ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، ناحق کسی کی جان لینا جو اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن پیٹھ پھیرنا اور پاک دامن غافل مومن عورتوں کو تہمت لگانا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6857]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة