بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جس نے کوئی ایسا گناہ کیا جس پر حد نہیں (مثلاً اجنبی عورت کو بوسہ دیا یا اس سے مساس کیا)۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: ان کفار و مرتدوں کے احکام میں جو مسلمانوں سے لڑتے ہیں باب: جس نے کوئی ایسا گناہ کیا جس پر حد نہیں (مثلاً اجنبی عورت کو بوسہ دیا یا اس سے مساس کیا)۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q6821 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قَالَ عَطَاءٌ: لَمْ يُعَاقِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَلَمْ يُعَاقِبْ الَّذِي جَامَعَ فِي رَمَضَانَ، وَلَمْ يُعَاقِبْ عُمَرُ صَاحِبَ الظَّبْيِ وَفِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
‏‏‏‏ عطاء نے کہا کہ ایسی صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہیں دی تھی۔ ابن جریج نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کو کوئی سزا نہیں دی تھی جنہوں نے رمضان میں بیوی سے صحبت کر لی تھی۔ اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ نے (حالت احرام میں) ہرن کا شکار کرنے والے کو سزا نہیں دی اور اس باب میں ابوعثمان کی روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بحوالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مروی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: Q6821]
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 6821 صحیح بخاری
قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، فَاسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً؟ قَالَ: لَا، قَالَ: هَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا دو مہینے روزے رکھنے کی تم میں طاقت نہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر کہا کہ پھر ساٹھ محتاجوں کو کھانا کھلاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6821]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6822 صحیح بخاری
اللَّيْثُ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
وَقَالَ اللَّيْثُ: عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ:" أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ: احْتَرَقْتُ، قَالَ: مِمَّ ذَاكَ؟ قَالَ: وَقَعْتُ بِامْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: لَهُ تَصَدَّقْ؟ قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، فَجَلَسَ وَأَتَاهُ إِنْسَانٌ يَسُوقُ حِمَارًا، وَمَعَهُ طَعَامٌ، قَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ، مَا أَدْرِي مَا هُوَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ؟ فَقَالَ: هَا أَنَا ذَا، قَالَ: خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ، قَالَ: عَلَى أَحْوَجَ مِنِّي؟ مَا لِأَهْلِي طَعَامٌ، قَالَ:، فَكُلُوهُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: الْحَدِيثُ الْأَوَّلُ أَبْيَنُ، قَوْلُهُ:" أَطْعِمْ أَهْلَكَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
اور لیث نے بیان کیا، ان سے عمرو بن الحارث نے، ان سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے، ان سے محمد بن جعفر بن زبیر نے، ان سے عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس مسجد میں آئے اور عرض کیا میں تو دوزخ کا مستحق ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہوئی؟ کہا کہ میں نے اپنی بیوی سے رمضان میں جماع کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے کہا کہ پھر صدقہ کر۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ پھر وہ بیٹھ گیا اور اس کے بعد ایک صاحب گدھا ہانکتے لائے جس پر کھانے کی چیز رکھی تھی۔ عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا چیز تھی۔ (دوسری روایت میں یوں ہے کہ کھجور لدی ہوئی تھی) اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لایا جا رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ آگ میں جلنے والے صاحب کہاں ہیں؟ وہ صاحب بولے کہ میں حاضر ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے اور صدقہ کر دے۔ انہوں نے پوچھا کیا اپنے سے زیادہ محتاج کو دوں؟ میرے گھر والوں کے لیے تو خود کوئی کھانے کی چیز نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ہی کھا لو۔ عبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ پہلی حدیث زیادہ واضح ہے جس میں «أطعم أهلك» کے الفاظ ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6822]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة