بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ
کتاب: قسموں کے کفارہ کے بیان میں
Sahih al-Bukhari
Home کتب صحیح بخاری کتاب: قسموں کے کفارہ کے بیان میں
# باب احادیث دیکھیں
1
باب: پس قسم کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔
بَابُ كَفَّارَاتِ الأَيْمَانِ:
Q6708 – 6708
2
باب: سورۃ التحریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ”اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کیا ہوا ہے اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہ بڑا جاننے والا بڑی حکمت والا ہے“۔
بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ وَاللَّهُ مَوْلاَكُمْ وَهْوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ} :
Q6709 – 6709
3
باب: جس نے کفارہ کے ادا کرنے کے لیے کسی تنگ دست کی مدد کی۔
بَابُ مَنْ أَعَانَ الْمُعْسِرَ فِي الْكَفَّارَةِ:
6710
4
باب: کفارہ میں دس مسکینوں کو کھانا دیا جائے خواہ وہ قریب کے رشتہ دار ہوں یا دور کے بلکہ قریب والوں کو کھلانے میں ثواب اور بھی زیادہ ہے۔
بَابُ يُعْطِي فِي الْكَفَّارَةِ عَشَرَةَ مَسَاكِينَ، قَرِيبًا كَانَ أَوْ بَعِيدًا:
6711
5
باب: مدینہ منورہ کا صاع (ایک پیمانہ)۔
بَابُ صَاعِ الْمَدِينَةِ:
Q6712 – 6714
6
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”یعنی قسم کے کفارہ میں ایک غلام کی آزادی“ اور کس طرح کے غلام کی آزادی افضل ہے۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ} ، وَأَيُّ الرِّقَابِ أَزْكَى؟
6715
7
باب: کفارہ میں مدبر، ام الولد اور مکاتب اور ولد الزنا کا آزاد کرنا درست ہے۔
بَابُ عِتْقِ الْمُدَبَّرِ وَأُمِّ الْوَلَدِ وَالْمُكَاتَبِ فِي الْكَفَّارَةِ، وَعِتْقِ وَلَدِ الزِّنَا:
Q6716 – 6716
8
باب: جب کفارہ میں غلام آزاد کرے گا تو اس کی ولاء کسے حاصل ہو گی؟
بَابُ إِذَا أَعْتَقَ فِي الْكَفَّارَةِ لِمَنْ يَكُونُ وَلاَؤُهُ؟
6717
9
باب: اگر کوئی شخص قسم میں ان شاءاللہ کہہ لے۔
بَابُ الاِسْتِثْنَاءِ فِي الأَيْمَانِ:
6718 – 6720
10
باب: قسم کا کفارہ، قسم توڑنے سے پہلے اور اس کے بعد دونوں طرح دے سکتا ہے۔
بَابُ الْكَفَّارَةِ قَبْلَ الْحِنْثِ وَبَعْدَهُ:
6721 – 6722