مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، عَبْدُ اللَّهِ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَقَبَةٍ، أَوْ قَالَ فِي ثَنِيَّةٍ قَالَ: فَلَمَّا عَلَا عَلَيْهَا رَجُلٌ نَادَى، فَرَفَعَ صَوْتَهُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ، قَالَ:" فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا"، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو سلیمان بن طرخان تیمی نے خبر دی، انہیں ابوعثمان نہدی نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک گھاٹی یا درے پر چڑھنے لگے۔ بیان کیا کہ جب ایک اور صحابی بھی اس پر چڑھ گئے تو انہوں نے بلند آواز سے «لا إله إلا الله والله أكبر.» کہا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے۔ پھر فرمایا، ابوموسیٰ یا تو یوں (فرمایا) اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے۔ میں نے عرض کیا، ضرور ارشاد فرمائیں، فرمایا کہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6409]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة