بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بخل سے اللہ کی پناہ مانگنا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: دعاؤں کے بیان میں باب: بخل سے اللہ کی پناہ مانگنا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q6370 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْبُخْلُ وَالْبَخَلُ وَاحِدٌ، مِثْلُ الْحُزْنِ وَالْحَزَنِ.
‏‏‏‏ «بخل» (باء کے ضمہ اور خاء کے سکون) اور «بخل» (باء کے نصب اور خاء کے نصب کے ساتھ) ایک ہی ہیں جیسے «حزن» اور «حزن» ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: Q6370]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 6370 صحیح بخاری
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ يَأْمُرُ بِهَؤُلَاءِ الْخَمْسِ وَيُحَدِّثُهُنَّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، ان سے مصعب بن سعد نے بیان کیا اور ان سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہ وہ ان پانچ باتوں سے پناہ مانگنے کا حکم دیتے تھے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالہ سے بیان کرتے تھے کہ «اللهم إني أعوذ بك من البخل،‏‏‏‏ وأعوذ بك من الجبن،‏‏‏‏ وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر،‏‏‏‏ وأعوذ بك من فتنة الدنيا،‏‏‏‏ وأعوذ بك من عذاب القبر» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں بزدلی سے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ ناکارہ عمر میں پہنچا دیا جاؤں، میں تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی آزمائش سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6370]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة