بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اگر کوئی شخص بلانے پر آیا ہو تو کیا اسے بھی اندر داخل ہونے کے لیے اذن لینا چاہئے یا نہیں۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: اجازت لینے کے بیان میں باب: اگر کوئی شخص بلانے پر آیا ہو تو کیا اسے بھی اندر داخل ہونے کے لیے اذن لینا چاہئے یا نہیں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q6246 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قَالَ سَعِيدٌ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هُوَ إِذْنُهُ"
سعید نے قتادہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابورافع نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہی (بلانا) اس کے لیے اجازت ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: Q6246]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 6246 صحیح بخاری
أَبُو نُعَيْمٍ ، عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، مُجَاهِدٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، أَخْبَرَنَا مُجَاهِدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ لَبَنًا فِي قَدَحٍ، فَقَالَ:" أَبَا هِرٍّ: الْحَقْ أَهْلَ الصُّفَّةِ، فَادْعُهُمْ إِلَيَّ"، قَالَ: فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ، فَأَقْبَلُوا، فَاسْتَأْذَنُوا، فَأُذِنَ لَهُمْ، فَدَخَلُوا.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن ذر نے بیان کیا (دوسری سند) اور ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو مجاہد نے خبر دی، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (آپ کے گھر میں) داخل ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک بڑے پیالے میں دودھ پایا تو فرمایا ابوہریرہ! اہل صفہ کے پاس جا اور انہیں میرے پاس بلا لا۔ میں ان کے پاس آیا اور انہیں بلا لایا۔ وہ آئے اور (اندر آنے کی) اجازت چاہی پھر جب اجازت دی گئی تو داخل ہوئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: 6246]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة