عُمَرُ بْنُ حَفْصِ ، أَبِي ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمُ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ ، الْأَعْمَشُ ، مُسْلِمٌ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ. ح قَالَ الْأَعْمَشُ: وَحَدَّثَنِي مُسْلِمٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ذُكِرَ عِنْدَهَا مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، فَقَالَتْ:" شَبَّهْتُمُونَا بِالْحُمُرِ وَالْكِلَابِ، وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ مُضْطَجِعَةً، فَتَبْدُو لِي الْحَاجَةُ فَأَكْرَهُ أَنْ أَجْلِسَ فَأُوذِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْسَلُّ مِنْ عِنْدِ رِجْلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا، کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم نے اسود کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے (دوسری سند) اور اعمش نے کہا کہ مجھ سے مسلم بن صبیح نے مسروق کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ ان کے سامنے ان چیزوں کا ذکر ہوا۔ جو نماز کو توڑ دیتی ہیں یعنی کتا، گدھا اور عورت۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم لوگوں نے ہمیں گدھوں اور کتوں کے برابر کر دیا۔ حالانکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح نماز پڑھتے تھے کہ میں چارپائی پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اور قبلہ کے بیچ میں لیٹی رہتی تھی۔ مجھے کوئی ضرورت پیش آئی اور چونکہ یہ بات پسند نہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے (جب کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوں) بیٹھوں اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تکلیف ہو۔ اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں کی طرف سے خاموشی کے ساتھ نکل جاتی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 514]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة