بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مسجد میں حلقہ باندھ کر بیٹھنا اور یوں ہی بیٹھنا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: مسجد میں حلقہ باندھ کر بیٹھنا اور یوں ہی بیٹھنا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 472 صحیح بخاری
مُسَدَّدٌ ، بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، مَا تَرَى فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ؟ قَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ صَلَّى وَاحِدَةً فَأَوْتَرَتْ لَهُ مَا صَلَّى، وَإِنَّهُ كَانَ يَقُولُ: اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ وِتْرًا، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِهِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہ کہا ہم سے بشر بن مفضل نے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا (جبکہ) اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر تھے کہ رات کی نماز (یعنی تہجد) کس طرح پڑھنے کے لیے آپ فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ دو دو رکعت کر کے پڑھ اور جب صبح قریب ہونے لگے تو ایک رکعت پڑھ لے۔ یہ ایک رکعت اس ساری نماز کو طاق بنا دے گی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ رات کی آخری نماز کو طاق رکھا کرو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا حکم دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 472]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 473 صحیح بخاری
أَبُو النُّعْمَانِ ، حَمَّادُ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ تُوتِرُ لَكَ مَا قَدْ صَلَّيْتَ"، قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَجُلًا نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا کہ کہا ہم سے حماد بن زید نے، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے آنے والے نے پوچھا کہ رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو دو رکعت پھر جب طلوع صبح صادق کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر کی پڑھ لے تاکہ تو نے جو نماز پڑھی ہے اسے یہ رکعت طاق بنا دے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ولید بن کثیر نے کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ عمری نے بیان کیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آواز دی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 473]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 474 صحیح بخاری
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبَا مُرَّةَ ، أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَ وَاحِدٌ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فَجَلَسَ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ الثَّلَاثَةِ، أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہ کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی اسحاق بن عبداللہ ابن ابی طلحہ کے واسطے سے کہ عقیل بن ابی طالب کے غلام ابومرہ نے انہیں خبر دی ابوواقد لیثی حارث بن عوف صحابی کے واسطہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ تین آدمی باہر سے آئے۔ دو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں حاضری کی غرض سے آگے بڑھے لیکن تیسرا چلا گیا۔ ان دو میں سے ایک نے درمیان میں خالی جگہ دیکھی اور وہاں بیٹھ گیا۔ دوسرا شخص پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا تو واپس ہی جا رہا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وعظ سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ان تینوں کے متعلق ایک بات نہ بتاؤں۔ ایک شخص تو اللہ کی طرف بڑھا اور اللہ نے اسے جگہ دی (یعنی پہلا شخص) رہا دوسرا تو اس نے (لوگوں میں گھسنے سے) شرم کی، اللہ نے بھی اس سے شرم کی، تیسرے نے منہ پھیر لیا۔ اس لیے اللہ نے بھی اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 474]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة