بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: لوگوں کے ساتھ فراخی سے پیش آنا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: اخلاق کے بیان میں باب: لوگوں کے ساتھ فراخی سے پیش آنا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q6129 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ خَالِطِ النَّاسَ وَدِينَكَ لَا تَكْلِمَنَّهُ وَالدُّعَابَةِ مَعَ الْأَهْلِ
اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں کے ساتھ میل ملاپ رکھو، لیکن اس کی وجہ سے اپنے دین کو زخمی نہ کرنا اور اس باب میں اہل و عیال کے ساتھ ہنسی مذاق، دل لگی کرنے کا بھی بیان ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: Q6129]
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 6129 صحیح بخاری
آدَمُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو التَّيَّاحِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالتیاح نے، کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم بچوں سے بھی دل لگی کرتے، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی ابوعمیر نامی سے (مزاحاً) فرماتے «يا أبا عمير ما فعل النغير‏"‏‏.‏» اے ابو عمیر! تیری نغیر نامی چڑیا تو بخیر ہے؟ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6129]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6130 صحیح بخاری
مُحَمَّدٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لِي صَوَاحِبُ يَلْعَبْنَ مَعِي، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ يَتَقَمَّعْنَ مِنْهُ فَيُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ فَيَلْعَبْنَ مَعِي".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں لڑکیوں کے ساتھ کھیلتی تھی، میری بہت سی سہیلیاں تھیں جو میرے ساتھ کھیلا کرتی تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اندر تشریف لاتے تو وہ چھپ جاتیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں میرے پاس بھیجتے اور وہ میرے ساتھ کھیلتیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6130]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة