بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کسی سے بھائی چارہ اور دوستی کا اقرار کرنا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: اخلاق کے بیان میں باب: کسی سے بھائی چارہ اور دوستی کا اقرار کرنا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q6082 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَ أَبُو جُحَيْفَةَ آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَلْمَانَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ
اور ابوجحیفہ (وہب بن عبداللہ) نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلمان اور ابودرداء کو بھائی بھائی بنا دیا تھا اور عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا کہ جب ہم مدینہ منورہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارگی کرائی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: Q6082]
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 6082 صحیح بخاری
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَآخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف ہمارے یہاں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں اور سعد بن ربیع میں بھائی چارگی کرائی تو پھر (جب عبدالرحمٰن بن عوف نے نکاح کیا تو) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اب ولیمہ کر خواہ ایک بکری کا ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6082]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6083 صحیح بخاری
مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَاصِمٌ ، لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَبَلَغَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ؟ فَقَالَ:" قَدْ حَالَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِي.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن سلیمان احول نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا تم کو یہ بات معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام میں معاہدہ (حلف) کی کوئی اصل نہیں؟ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود قریش اور انصار کے درمیان میرے گھر میں حلف کرائی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6083]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة