بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اس شخص کا گناہ جس کا پڑوسی اس کے شر سے امن میں نہ رہتا ہو۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: اخلاق کے بیان میں باب: اس شخص کا گناہ جس کا پڑوسی اس کے شر سے امن میں نہ رہتا ہو۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q6016 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
{يُوبِقْهُنَّ} يُهْلِكْهُنَّ. {مَوْبِقًا} مَهْلِكًا.
‏‏‏‏ قرآن مجید میں جو لفظ «يوبقهن» ہے اس کے معنی ان کو ہلاک کر ڈالے۔ «موبقا» کے معنی ہلاکت۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: Q6016]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 6016 صحیح بخاری
عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ ، أَبِي شُرَيْحٍ ، شَبابةُ ، وَأَسَدُ بْنُ مُوسَى ، : حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ" قِيلَ: وَمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَايِقَهُ"، تَابَعَهُ شَبابةُ، وَأَسَدُ بْنُ مُوسَى، وَقَالَ : حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے ابوشریح نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیان کیا واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ عرض کیا گیا کون: یا رسول اللہ؟ فرمایا وہ جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ اس حدیث کو شبابہ اور اسد بن موسیٰ نے بھی روایت کیا ہے اور حمید بن اسود اور عثمان بن عمر اور ابوبکر بن عیاش اور شعیب بن اسحاق نے اس حدیث کو ابن ابی ذئب سے یوں روایت کیا ہے، انہوں نے مقبری سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6016]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة