آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي دَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُكُّ رَأْسَهُ بِالْمِدْرَى، فَقَالَ:" لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَطَعَنْتُ بِهَا فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ قِبَلِ الْأَبْصَارِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دیوار کے ایک سوراخ سے گھر کے اندر دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت اپنا سر کنگھے سے کھجلا رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو میں تمہاری آنکھ پھوڑ دیتا ارے اذن (اجازت) لینا تو اس کے لیے ہے کہ آدمی کی نظر (کسی کے) ستر پر نہ پڑے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5924]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة