بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: خطمی (یا گوند وغیرہ) سے بالوں کو جمانا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: لباس کے بیان میں باب: خطمی (یا گوند وغیرہ) سے بالوں کو جمانا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 5914 صحیح بخاری
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" مَنْ ضَفَّرَ فَلْيَحْلِقْ، وَلَا تَشَبَّهُوا بِالتَّلْبِيدِ"، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَقُولُ:" لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُلَبِّدًا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ جو شخص سر کے بالوں کو گوند لے (وہ حج یا عمرے سے فارغ ہو کر سر منڈائے) اور جیسے احرام میں بالوں کو جما لیتے ہیں غیر احرام میں نہ جماؤ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بال جماتے دیکھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5914]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5915 صحیح بخاری
حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنِي حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا، يَقُولُ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ" لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے حبان بن موسیٰ اور احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بال جما لیے تھے اور احرام کے وقت یوں آپ لبیک کہہ رہے تھے «لبيك اللهم لبيك،‏‏‏‏ لبيك لا شريك لك لبيك،‏‏‏‏ إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ان کلمات کے اوپر اور کچھ آپ نہیں بڑھاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5915]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5916 صحیح بخاری
إِسْمَاعِيلُ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ:" إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے اسماعیل بن ابن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بات ہے کہ لوگ عمرہ کر کے احرام کھول چکے ہیں حالانکہ آپ نے احرام نہیں کھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیونکہ میں نے اپنے سر کے بال جما لیے ہیں اور اپنی ہدی (قربانی کے جانور) کے گلے میں قلادہ ڈال دیا ہے۔ اس لیے جب تک میری قربانی کا نحر نہ ہو لے میں احرام نہیں کھول سکتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5916]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة