بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بچوں کے گلوں میں ہار لٹکانا جائز ہے۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: لباس کے بیان میں باب: بچوں کے گلوں میں ہار لٹکانا جائز ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 5884 صحیح بخاری
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُوقٍ مِنْ أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ فَانْصَرَفَ فَانْصَرَفْتُ، فَقَالَ:" أَيْنَ لُكَعُ ثَلَاثًا، ادْعُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ"، فَقَامَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَمْشِي وَفِي عُنُقِهِ السِّخَابُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَقَالَ الْحَسَنُ: بِيَدِهِ هَكَذَا فَالْتَزَمَهُ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ"، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَمَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، بَعْدَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن آدم نے خبر دی، کہا ہم سے ورقاء بن عمر نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی یزید نے، ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مدینہ کے بازاروں میں سے ایک بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس ہوئے تو میں پھر آپ کے ساتھ واپس ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بچہ کہاں ہے۔ یہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا۔ حسن بن علی کو بلاؤ۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہما آ رہے تھے اور ان کی گردن میں (خوشبودار لونگ وغیرہ کا) ہار پڑا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس طرح پھیلایا کہ (آپ حسن رضی اللہ عنہ کو گلے سے لگانے کے لیے) اور حسن رضی اللہ عنہ نے بھی اپنا ہاتھ پھیلایا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لپٹ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور ان سے بھی محبت کر جو اس سے محبت رکھیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد کوئی شخص بھی حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ مجھے پیارا نہیں تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5884]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة