بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اللہ پاک کا سورۃ الاعراف میں فرمان ”اے رسول! کہہ دو کہ کس نے وہ زیب و زینت کی چیزیں حرام کیں ہیں جو اس نے بندوں کے لیے (زمین سے) پیدا کی ہیں (یعنی عمدہ عمدہ لباس)“۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: لباس کے بیان میں باب: اللہ پاک کا سورۃ الاعراف میں فرمان ”اے رسول! کہہ دو کہ کس نے وہ زیب و زینت کی چیزیں حرام کیں ہیں جو اس نے بندوں کے لیے (زمین سے) پیدا کی ہیں (یعنی عمدہ عمدہ لباس)“۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q5783 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُوا، وَاشْرَبُوا، وَالْبَسُوا، وَتَصَدَّقُوا فِي غَيْرِ إِسْرَافٍ وَلَا مَخِيلَةٍ"، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُلْ مَا شِئْتَ، وَالْبَسْ مَا شِئْتَ، مَا أَخْطَأَتْكَ اثْنَتَانِ سَرَفٌ أَوْ مَخِيلَةٌ.
‏‏‏‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کھاؤ اور پیو اور پہنو اور خیرات کرو لیکن اسراف نہ کرو اور نہ تکبر کرو۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا جو تیرا جی چاہے (بشرطیکہ حلال ہو) کھاؤ اور جو تیرا جی چاہے (مباح کپڑوں میں سے) پہن مگر دو باتوں سے ضرور بچو اسراف اور تکبر سے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: Q5783]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 5783 صحیح بخاری
إِسْمَاعِيلُ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ يخبرونه، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے، انہوں نے نافع اور عبداللہ بن دینار اور زید بن اسلم سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن نظر رحمت نہیں کرے گا جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5783]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة