بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: گدھی کا دودھ پینا کیسا ہے؟
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں باب: گدھی کا دودھ پینا کیسا ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 5780 صحیح بخاری
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ"، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ حَتَّى أَتَيْتُ الشَّأْمَ
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوادریس خولانی نے اور ان سے ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر دانت سے کھانے والے درندہ جانور (کے گوشت) سے منع فرمایا۔ زہری نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث اس وقت تک نہیں سنی جب تک شام نہیں آیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5780]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5781 صحیح بخاری
اللَّيْثُ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ، أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ
وَزَادَ اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ هَلْ نَتَوَضَّأُ أَوْ نَشْرَبُ أَلْبَانَ الْأُتُنِ، أَوْ مَرَارَةَ السَّبُعِ، أَوْ أَبْوَالَ الْإِبِلِ؟، قَالَ: قَدْ كَانَ الْمُسْلِمُونَ يَتَدَاوَوْنَ بِهَا فَلَا يَرَوْنَ بِذَلِكَ بَأْسًا، فَأَمَّا أَلْبَانُ الْأُتُنِ، فَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُحُومِهَا وَلَمْ يَبْلُغْنَا عَنْ أَلْبَانِهَا، أَمْرٌ وَلَا نَهْيٌ، وَأَمَّا مَرَارَةُ السَّبُعِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
اور لیث نے زیادہ کیا ہے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے کہ میں نے ابوادریس سے پوچھا کیا ہم (دوا کے طور پر) گدھی کے دودھ سے وضو کر سکتے ہیں یا اسے پی سکتے ہیں یا درندہ جانوروں کے پتِے استعمال کر سکتے ہیں یا اونٹ کا پیشاب پی سکتے ہیں۔ ابوادریس نے کہا کہ مسلمان اونٹ کے پیشاب کو دوا کے طور پر استعمال کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ البتہ گدھی کے دودھ کے بارے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے گوشت سے منع فرمایا تھا۔ اس کے دودھ کے متعلق ہمیں کوئی حکم یا ممانعت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے معلوم نہیں ہے۔ البتہ درندوں کے پتِے کے متعلق جو ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے ابوادریس خولانی نے خبر دی اور انہیں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر دانت والے شکاری درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5781]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة