بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اثمد اور سرمہ لگانا جب آنکھیں دکھتی ہوں۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں باب: اثمد اور سرمہ لگانا جب آنکھیں دکھتی ہوں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q5706 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
فِيهِ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ.
‏‏‏‏ اس باب میں ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے ایک حدیث بھی مروی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: Q5706]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 5706 صحیح بخاری
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، زَيْنَبَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا، فَذَكَرُوهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرُوا لَهُ الْكُحْلَ وَأَنَّهُ يُخَافُ عَلَى عَيْنِهَا، فَقَالَ" لَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي أَحْلَاسِهَا فِي شَرِّ بَيْتِهَا، فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بَعْرَةً فَهَلَّا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعیدقطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھ سے حمید بن نافع نے بیان کیا، ان سے زینب رضی اللہ عنہا نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا (زمانہ عدت میں) اس عورت کی آنکھ دکھنے لگی تو لوگوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا۔ ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سرمہ کا ذکر کیا اور یہ کہ (اگر سرمہ آنکھ میں نہ لگایا تو) ان کی آنکھ کے متعلق خطرہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ (زمانہ جاہلیت میں) عدت گزارنے والی تم عورتوں کے اپنے گھر میں سب سے بدتر کپڑے میں پڑا رہنا پڑتا تھا یا (آپ نے یہ فرمایا کہ) اپنے کپڑوں میں گھر کے سب سے بدتر حصہ میں پڑا رہنا پڑتا تھا پھر جب کوئی کتا گزرتا تو اس پر وہ مینگنی پھینک کر مارتی (تب عدت سے باہر ہوتی) پس چار مہینے دس دن تک سرمہ نہ لگاؤ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5706]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة