بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عیادت کے وقت مریض سے کیا کہا جائے اور مریض کیا جواب دے۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: امراض اور ان کے علاج کے بیان میں باب: عیادت کے وقت مریض سے کیا کہا جائے اور مریض کیا جواب دے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 5661 صحیح بخاری
قَبِيصَةُ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَمَسِسْتُهُ، وَهُوَ يُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، فَقُلْتُ: إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا وَذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ، قَالَ: أَجَلْ،" وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى إِلَّا حَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں جب آپ بیمار تھے حاضر ہوا۔ میں نے آپ کا جسم چھوا، آپ کو تیز بخار تھا۔ میں نے عرض کیا آپ کو تو بڑا تیز بخار ہے یہ اس لیے ہو گا کہ آپ کو دگنا ثواب ملے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور کسی مسلمان کو بھی جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5661]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5662 صحیح بخاری
إِسْحَاقُ ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، خَالِدٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ يَعُودُهُ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقَالَ: كَلَّا بَلْ حُمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ، كَيْمَا تُزِيرَهُ الْقُبُورَ، قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَعَمْ إِذًا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک شخص کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا «لا بأس طهور إن شاء الله» کہ کوئی فکر نہیں اگر اللہ نے چاہا (یہ مرض) گناہوں سے پاک کرنے والا ہو گا لیکن اس نے یہ جواب دیا کہ ہرگز نہیں یہ تو ایسا بخار ہے جو ایک بوڑھے پر غالب آ چکا ہے اور اسے قبر تک پہنچا کر ہی رہے گا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایسا ہی ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5662]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة