بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ممانعت کے بعد ہر قسم کے برتنوں میں نبیذ بھگونے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت کا ہونا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: مشروبات کے بیان میں باب: ممانعت کے بعد ہر قسم کے برتنوں میں نبیذ بھگونے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت کا ہونا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 5592 صحیح بخاری
يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمٍ ، جَابِرٍ ، خَلِيفَةُ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الظُّرُوفِ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: إِنَّهُ لَا بُدَّ لَنَا مِنْهَا، قَالَ: فَلَا إِذًا"، وَقَالَ خَلِيفَةُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ بِهَذَا.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ ابواحمد زبیری نے، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چند برتنوں میں نبیذ بھگونے کی (جن میں شراب بنتی تھی) ممانعت کر دی تھی پھر انصار نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تو دوسرے برتن نہیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تو خیر پھر اجازت ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے اور ان سے سالم بن ابی الجعد نے پھر یہی حدیث روایت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5592]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5593 صحیح بخاری
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي عِيَاضٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُفْيَانُ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَسْقِيَةِ، قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُ سِقَاءً: فَرَخَّصَ لَهُمْ فِي الْجَرِّ غَيْرِ الْمُزَفَّتِ". حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا، وَقَالَ فِيهِ: لَمَّا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، وہ سلیمان بن ابی مسلم احول سے، وہ مجاہد سے، وہ ابوعیاض عمرو بن اسود سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشکوں کے سوا اور برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر کسی کو مشک کہاں سے مل سکتی ہے؟ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بن لاکھ لگے گھڑے (روغن زفت لگے برتن) میں نبیذ بھگونے کی اجازت دے دی۔ ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے یہی بیان کیا اور اس میں یوں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چند برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5593]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5594 صحیح بخاری
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، سُلَيْمَانُ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَلِيٍّ ، عُثْمَانُ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ"، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے، کہ ان سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء اور مزفت (خاص قسم کے برتن جن میں شراب بنتی تھی) کے استعمال کی بھی ممانعت کر دی تھی۔ ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، کہا ان سے اعمش نے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5594]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5595 صحیح بخاری
عُثْمَانُ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، لِلْأَسْوَدِ ، أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قُلْتُ لِلْأَسْوَدِ: هَلْ سَأَلْتَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ، فَقَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، عَمَّ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ؟، قَالَتْ: نَهَانَا فِي ذَلِكَ أَهْلَ الْبَيْتِ أَنْ نَنْتَبِذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ، قُلْتُ: أَمَا ذَكَرَتِ الْجَرَّ وَالْحَنْتَمَ؟، قَالَ: إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ، أَفَأُحَدِّثُ مَا لَمْ أَسْمَعْ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ابراہیم نخعی نے کہ میں نے اسود بن یزید سے پوچھا کیا تم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تھا کہ کس برتن میں نبیذ (کھجور کا میٹھا شربت) بنانا مکروہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، میں نے عرض کیا ام المؤمنین! کس برتن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خاص گھر والوں کو کدو کی تونبی اور لاکھی برتن میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تھا۔ (ابراہیم نخعی نے بیان کیا کہ) میں نے اسود سے پوچھا انہوں نے گھڑے اور سبز مرتبان کا ذکر نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے سنا، کیا وہ بھی بیان کر دوں جو میں نے نہ سنا ہو؟ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5595]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5596 صحیح بخاری
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، الشَّيْبَانِيُّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ، قُلْتُ: أَنَشْرَبُ فِي الْأَبْيَضِ؟، قَالَ: لَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سبز گھڑے سے منع فرمایا تھا، میں نے پوچھا کیا ہم سفید گھڑوں میں پی لیا کریں کہا کہ نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5596]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة