بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سورۃ «الفلق» کی تفسیر۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں باب: سورۃ «الفلق» کی تفسیر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q4976 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الْفَلَقُ: الصُّبْحُ، وَغَاسِقٍ: اللَّيْلُ إِذَا وَقَبَ غُرُوبُ الشَّمْسِ، يُقَالُ: أَبْيَنُ مِنْ فَرَقِ، وَفَلَقِ الصُّبْحِ وَقَبَ إِذَا دَخَلَ فِي كُلِّ شَيْءٍ وَأَظْلَمَ.
‏‏‏‏ مجاہد نے کہا کہ «غاسق‏» سے رات مراد ہے۔ «إذا وقب‏» سے سورج کا ڈوب جانا مراد ہے۔ «فرق» اور «فلق» کے ایک ہی معنی ہیں کہتے ہیں یہ بات «فرق» صبح یا «فلق» صبح سے زیادہ روشن ہے۔ عرب لوگ «وقب‏» اس وقت کہتے ہیں جب کوئی چیز بالکل کسی چیز میں گھس جائے اور اندھیرا ہو جائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4976]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 4976 صحیح بخاری
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانُ ، عَاصِمٍ ، وَعَبْدَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، وَعَبْدَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، عَنْ الْمُعَوِّذَتَيْنِ، فَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" قِيلَ لِي"، فَقُلْتُ: فَنَحْنُ نَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عاصم اور عبدہ نے، ان سے زر بن حبیش نے بیان کیا کہ انہوں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے معوذتین کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ یہ مسئلہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے (جبرائیل علیہ السلام) کی زبانی کہا گیا ہے کہ یوں کہئیے کہ «اعوذ برب الفلق» الخ میں نے اسی طرح کہا چنانچہ ہم بھی وہی کہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4976]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة