بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
|
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سورۃ المرسلات کی تفسیر۔
Sahih al-Bukhari
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: جِمَالَاتٌ: حِبَالٌ، ارْكَعُوا: صَلُّوا لَا يَرْكَعُونَ لَا يُصَلُّونَ وَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ، لَا يَنْطِقُونَ، وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ، الْيَوْمَ نَخْتِمُ: عَلَى أَفْوَاهِهِمْ، فَقَالَ إِنَّهُ ذُو أَلْوَانٍ مَرَّةً يَنْطِقُونَ وَمَرَّةً يُخْتَمُ عَلَيْهِمْ.
اور مجاہد نے کہا «جمالات» جہاز کی موٹی رسیاں۔ «اركعوا» نماز پڑھو۔ «لا يركعون» نماز نہیں پڑھتے۔ کسی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا یہ قرآن مجید میں اختلاف کیا ہے ایک جگہ تو فرمایا کہ کافر بات نہ کریں گے۔ دوسری جگہ یوں ہے کہ کافر قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم (دنیا میں) مشرک نہ تھے۔ تیسری جگہ یوں ہے کہ ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے۔ انہوں نے کہا قیامت کے دن کافروں کے مختلف حالات ہوں گے۔ کبھی وہ بات کریں گے، کبھی ان کے منہ پر مہر کر دی جائے گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4930]