بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سورۃ نوح کی تفسیر۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں باب: سورۃ نوح کی تفسیر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q4920 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِنَّا أَرْسَلْنَا أَطْوَارًا طَوْرًا: كَذَا وَطَوْرًا كَذَا، يُقَالُ: عَدَا طَوْرَهُ أَيْ قَدْرَهُ وَالْكُبَّارُ أَشَدُّ مِنَ الْكِبَارِ، وَكَذَلِكَ جُمَّالٌ وَجَمِيلٌ لِأَنَّهَا أَشَدُّ مُبَالَغَةً، وَكُبَّارٌ الْكَبِيرُ وَكُبَارًا أَيْضًا بِالتَّخْفِيفِ وَالْعَرَبُ، تَقُولُ رَجُلٌ حُسَّانٌ وَجُمَّالٌ وَحُسَانٌ مُخَفَّفٌ وَجُمَالٌ مُخَفَّفٌ، دَيَّارًا: مِنْ دَوْرٍ، وَلَكِنَّهُ فَيْعَالٌ مِنَ الدَّوَرَانِ كَمَا قَرَأَ عُمَرُ الْحَيُّ الْقَيَّامُ وَهِيَ مِنْ قُمْتُ وَقَالَ غَيْرُهُ: دَيَّارًا أَحَدًا تَبَارًا هَلَاكًا، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مِدْرَارًا يَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَقَارًا عَظَمَةً.
‏‏‏‏ «أطوارا‏» کبھی کچھ کبھی کچھ مثلاً منی پھر گوشت کا لوتھڑا عرب لوگ کہتے ہیں «عدا طوره‏.‏» اپنے انداز سے بڑھ گیا۔ «كبار» (بہ تشدید باء) میں «كبار» سے زیادہ مبالغہ ہے یعنی بہت ہی بڑا، جیسے جمیل خوبصورت، جمال بہت ہی خوبصورت غرض «كبار» کا معنی بڑا کبھی اس کو «كبار» تخفیف باء سے بھی پڑھا ہے۔ عرب لوگ کہتے ہیں «حسان» اور «جمال» (تشدید سے) اور «حسان» اور «جمال» (تخفیف سے)۔ «ديارا‏»، «دور» سے نکلا ہے۔ اس کا وزن «فيعال» ہے (اصل میں دیوار تھا) جیسے عمر رضی اللہ عنہ نے «الحى القيوم‏.‏» کو «الحى القيام‏.‏» پڑھا ہے۔ یہ قیامت «قمت‏» سے نکلا ہے (تو اصل میں «قيوام» تھا)۔ اوروں نے کہا «ديارا‏» کے معنی کسی کو «تبارا‏» ہلاکت۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «مدرارا‏» ایک کے پیچھے دوسرا یعنی لگاتار بارش۔ «وقارا‏» عظمت بڑائی مراد ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4920]