بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: آیت کی تفسیر ”اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو اور پانی نہ ہو تو پاک مٹی پر تیمم کرے“۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں باب: آیت کی تفسیر ”اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو اور پانی نہ ہو تو پاک مٹی پر تیمم کرے“۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q4583 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
صَعِيدًا: وَجْهَ الْأَرْضِ وَقَالَ جَابِرٌ: كَانَتِ الطَّوَاغِيتُ الَّتِي يَتَحَاكَمُونَ إِلَيْهَا فِي جُهَيْنَةَ وَاحِدٌ، وَفِي أَسْلَمَ وَاحِدٌ وَفِي كُلِّ حَيٍّ وَاحِدٌ كُهَّانٌ، يَنْزِلُ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، وَقَالَ عُمَرُ: الْجِبْت السِّحْر، وَالطَّاغُوتُ الشَّيْطَانُ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ: الْجِبْتُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ شَيْطَانٌ، وَالطَّاغُوتُ الْكَاهِنُ.
‏‏‏‏ «صعيدا‏» زمین کی ظاہری سطح کو کہتے ہیں۔ جابر نے کہا کہ طاغوت بڑے ظالم مشرک قسم کے سردار لوگ جن کے یہاں جاہلیت میں لوگ مقدمات لے جاتے تھے۔ ایک ایسا سردار قبیلہ جہینہ میں تھا، ایک قبیلہ اسلم میں تھا اور ہر قبیلہ میں ہی ایک ایسا طاغوت ہوتا تھا۔ یہ وہی کاہن تھے جن کے پاس شیطان (غیب کی خبریں لے کر) آیا کرتے تھے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ «الجبت» سے مراد جادو ہے اور «الطاغوت» سے مراد شیطان ہے اور عکرمہ نے کہا کہ «الجبت» حبشی زبان میں شیطان کو کہتے ہیں اور «الطاغوت» بمعنی کاہن کے آتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4583]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 4583 صحیح بخاری
مُحَمَّدٌ ، عَبْدَةُ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" هَلَكَتْ قِلَادَةٌ لِأَسْمَاءَ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهَا رِجَالًا، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسُوا عَلَى وُضُوءٍ، وَلَمْ يَجِدُوا مَاءً، فَصَلَّوْا وَهُمْ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ" يَعْنِي آيَةَ التَّيَمُّمِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ (مجھ سے) اسماء رضی اللہ عنہا کا ایک ہار گم ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چند صحابہ رضی اللہ عنہم کو اسے تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ ادھر نماز کا وقت ہو گیا، نہ لوگ وضو سے تھے اور نہ پانی موجود تھا۔ اس لیے وضو کے بغیر نماز پڑھی گئی اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4583]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة