بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: آیت کی تفسیر ”اور تم پر ہم نے بادل کا سایہ کیا، اور تم پر ہم نے من و سلویٰ اتارا اور کہا کہ کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں کو جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں، ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے نے خود اپنے نفسوں پر ظلم کیا“۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں باب: آیت کی تفسیر ”اور تم پر ہم نے بادل کا سایہ کیا، اور تم پر ہم نے من و سلویٰ اتارا اور کہا کہ کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں کو جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں، ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے نے خود اپنے نفسوں پر ظلم کیا“۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q4478 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الْمَنُّ: صَمْغَةٌ، وَالسَّلْوَى: الطَّيْرُ.
‏‏‏‏ آیت مذکورہ کی تفسیر میں مجاہد نے کہا کہ «من» ایک درخت کا گوند تھا اور «سلوىا» پرندے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4478]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 4478 صحیح بخاری
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے، ان سے عمرو بن حریث نے اور ان سے سعید بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا «كمأة» (یعنی کھنبی) بھی «من» کی قسم ہے اور اس کا پانی آنکھ کی دوا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4478]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة